بنگلورو،02/جولائی (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) کرناٹک میں ایچ ڈی کمارسوامی کی قیادت والی مخلوط حکومت کو جھٹکا دیتے ہوئے باغی ممبر اسمبلی رمیش جرکیہولی سمیت دوکانگریس ممبران اسمبلی نے پیر کو ریاستی اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا۔وہیں کرناٹک حکومت میں وزیر جی ٹی دیوگوڑا کا کہنا ہے کہ ممبران اسمبلی کے استعفیٰ دینے کے پیچھے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کا ہاتھ نہیں ہے۔جے ڈی ایس ممبراسمبلی اورکرناٹک حکومت میں وزیر جی ٹی دیوگوڑا کا کہنا ہے کہ اراکین اسمبلی کے استعفیٰ میں وزیر اعظم نریندر مودی اوروزیر داخلہ امت شاہ کا ہاتھ نہیں ہے۔اپوزیشن حکومت کو غیر مستحکم کرنے میں شامل نہیں ہے۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ پی ایم نے جب سے حلف لیا ہے تب سے ملک، کشمیر، امریکہ، چین کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔پی ایم مکمل طور پر بجٹ میں شامل ہیں،کوئی بھی بی جے پی کو الزام نہیں دے سکتا۔وہیں کانگریس لیڈر ایشور کھادرے نے جی ٹی دیوگوڑا کے بیان پر کہا ہے کہ یہ جی ٹی دیوگوڑا کی رائے ہو سکتی ہے لیکن میری رائے میں بی جے پی اس معاملے میں براہ راست طور پر شامل ہے،وہ ای ڈی اور آئی ٹی کا ڈر دکھا کر ممبران اسمبلی کو بلیک میل کر رہے ہیں،ریاست کے لوگ جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے،ہم نے اراکین اسمبلی سے بات کی ہے اور کوئی بھی استعفیٰ نہیں آئے گا۔بتا دیں کہ کرناٹک میں کانگریس ممبر اسمبلی رمیش جرکیہولی نے پیر کو اسمبلی اسپیکر کو استعفیٰ سونپا۔اسمبلی اسپیکر کے آر رمیش کمار کو بھیجے گئے کناڈا زبان میں ہاتھ سے لکھے گئے خط میں جرکیہولی نے شکایت کی تھی کہ ان کی پارٹی نے گزشتہ سال کابینہ سے انہیں باہر کر ان کے تجربہ کو نظر انداز کیا تھا۔وہیں گزشتہ چند گھنٹوں میں کرناٹک میں کانگریس کو یہ دوسرا جھٹکا لگا ہے۔اس سے پہلے وجے نگر سے رکن اسمبلی آنند سنگھ نے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔ایسا مانا جا رہا ہے کہ دونوں لیڈر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہو سکتے ہیں،جس کی وجہ سے دونوں نے استعفیٰ دیا۔